ا یک تھی صا لحہ Episode 1

 

نا ول

Episode1

آج اسے اس گھرسے گئے پندرہ سا ل ہو چکے تھے۔لیکن وہ کون تھی اور کہاں سے آئی تھی۔ان سوالوں کا
جواب حورین آج تک نہیں جا ن پا ئی تھی۔اور اس رازکوجا ننے کا تجسس دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔اسے تو
یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کا جواب جا کر پو چھے بھی تو کس سے پوچھے۔گھر کے آ د ھے سے ز یا د ہ فرد
اسے جا نتے ہی نہیں تھے اور جو جانتے تھے وہ اسکی بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔اب تو گھر میں کو ئی اس کا نام بھی نہیں جا نتا تھا۔کیا تھا اسکا نام ؟؟؟۔
بہت سو چنے کے بعد حورین کو اس کا نا م یاد آ یا۔اس کا نا م تھا۔صا لحہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تم رو کیوں رہی ہو“ ؟؟؟؟؟
ِپا نچ سالہ حورین جو کہ سیڑھیوں پر بیھٹی رو رہی تھی نے سوں سوں کرتے ہوئے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
جو کہ آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
”وہ اسجد میری کینڈی چھین کر بھاگ گیا“۔وہ روتے ہوئے بولی۔
”کینڈی۔۔وہ کیا ہوتی ہے“ ؟؟؟؟۔اسکی آنکھیں مزید پھیلی تھیں حیرت سے۔
”آ پکو یہ بھی نھیں پتہ“۔۔حورین رونا بھول چکی تھی۔
”نہیں“۔اس نے جواب دیا۔
”وہ کھانے کی چیز ہوتی ہے“۔حورین نے جواب دیا۔
”تو کیا اس کے چھین جانے پر رونا چاہیے ؟؟؟؟وہ معصومیت سے بولی۔
”ہاں۔تو کیا نہیں رونا چاہیے“۔
مجھے لگا کہ صر ف چو ٹ لگنے پر رو تے ہیں۔
سب کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے سا تھ گھر سے بھا گ گئی تھی مگر حورین اس با ت کو ما ننے کے لیے تیا رنہ تھی۔وہ
بہت معصوم تھی۔وہ ا یسا کیسے کر سکتی تھی۔
................................................
عنا دل کو وہ آج بھی درخت کے پا س کھڑا نظر آیا وہ اکثر ا یسے ہی کبھی درخت کے پا س یا کبھی دیوار کے پاس کھڑا نظر آتا تھا اور اس کی نظر یں عنا دل کو خود پر دور تک محسوس ہوتی تھی یہ سلسلہ پچھلے دو سا ل سے چل رہا تھا پہلے تو عنا دل کو اس سے ڈر لگتا تھا مگر اب تو جیسے اس کی عا دت ہو چکی تھی اتنا تو وہ بھی جا ن گئی تھی کہ وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا نا چا ہتا تھا مگر یہ با ت آہستہ آہستہ کا فی لو گ محسوس کر نے لگے تھے اور یہ بات عنادل کوکافی بری لگ رہی تھی اس لیے اس نے آج اس با ت کو ختم کر نے کا سو چاچھٹی ٹائم وہ بسمہ کے ساتھ اس سے بات کرنے پہنج گئی۔
آخر آپ کے سا تھ مسئلہ کیا ہے۔ عنادل اس کے سر پر پہنچ کر چلا تے ہوئے بولی۔
ابراہیم جو کہ اسے اپنی طر ف آتا دیکھ کر پہلے ہی پر یشان ہو گیا تھا اب تو جیسے بو کھلا گیا تھا۔اس پہلے کے وہ کچھ بو لتا بسمہ بو ل پڑی۔
ؐعنا...آہستہ بو لو لو گ دیکھ رہے ہیں۔عنادل نے اردگرد دیکھا تو کافی لوگ اس چلانے پر اسے دیکھ رہے تھے۔ ابرا ہیم بھی تب تک سنبھل چکا تھا۔
میری وجہ سے آپ کو کو ئی مسئلہ ہوا ہے کیا....؟ وہ انتہا ئی نرم لہجے میں مخاطب ہوا۔
یہ آپ مجھ سے پو چھ رہے ہیں آپ کو خود تو جیسے پتہ ہی نہیں ہے۔ اب کی با ر عنا نے اپنی آواز آہستہ رکھی۔
آپ کے یہاں کھٹر ے ہو کر گھورنے سے جیسے مجھے کو ئی اثر ہی نہیں پڑے گاآپ کی وجہ سے میرے کلاس فیلوزاور باقی لوگ پتہ نہیں کیا سوچتے ہو گے میرے با رے میں۔
ابرا ہیم جو کہ اب سمجھ چکا تھا کہ شا ید اس اسے دیکھنا بھی اب جر م بن چکا تھاایک ٹھنڈی سا نس بھری اور
بولا
آئی ایم سوری...مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا اس طر ح سے آپ کو دیکھنا آپ کو تکلیف دے سکتاہے۔میں تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا جو کہ آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں تھی تو بس آپ کو دور سے دیکھ لیتاتھا
مجھے نہیں اندازہ تھاکہ یہ آپ کے لیے پر یشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
عنادل جو کہ اس کے لہجے کی شا ئستگی دیکھ کر حیران تھی ایک بار تو جیسے چپ ہو گئی تھی اسے لگا تھا کہ وہ بھی باقی لڑکوں کی طرح بہانے کرے گا کہ وہ اسے کب دیکھتا ہے یا پھر چھچوروں والے ڈائیلاگ مارے گابلکہ وہ تو الٹا اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی ما نگ رہا تھابسمہ اس سارے معاملے میں چپ کر کے بس تماشا دیکھ رہی تھی۔
اوہو تو اب آپ اپنے آپ کواس طر ح معصوم ثا بت کرے گے کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے یا آپ مجھے پسندکرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
میں اپنے آپکو معصوم ثا بت کر نے کے لیے نہیں کہہ رہا میں آپکوواقعی پسند کرتاہوں اور آپ سے شادی کرناچاہتاہوں۔ ابراہیم نے ہمت کر کے دل کی با ت کہہ ہی دی تھی شاید آج نہ کہتا تو پھر کبھی نہ کہہ پاتااورزندگی بھر پچھتا تا رہتا۔
مجھے لگا ہی تھا آپ یہ ہی کہو گے ہر لڑکا پکڑے جا نے پر یہ ہی کہتا ہے۔عنادل کو اب اور بھی غصہ آرہا تھا۔
میں کوئی بہانے نہیں بنا رہا سچ کہہ رہا ہوں۔ابراہیم بے بسی سے بولااسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے عناکو
قائل کرتا کہ وہ اپنے جذبات میں سچا اور سیدھا سادہ انسان ہے۔
وہ سب میں نہیں جا نتی آئیندہ مجھے آپ میر ے آس پا س بھی نظر نہ آئے۔
اوراسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی بسمہ کا ہا تھ پکڑ کر وہاں سے چل پڑی بسمہ جو کہ پہلے بھی خاموش تھی اور اب بھی عنا کے سا تھ کھنچتی چلی گئی ابرا ہیم کا چہرہ اب اتر چکا تھا جو کہ بسمہ کی نظروں سے مخفی نہ تھا بسمہ اسے
پہلے ہی بتا چکی تھی کہ وہ نہیں ما نے گی پر وہ نہیں ما نا تھا۔
................................................
عنا دل کی نظر یں آ ج بے تا بی سے اس کو تلا ش کر ر ہی تھی جو کہ اس کے ا یک با ر منع کے بعد دو با رہ ا سے نظر نہیں آ یا تھا۔ جب سے عنا نے اسے ا پنے پیچھے آنے سے منع کیا تھاتب سے لے کر اب تک اسے ایک ہفتہ گزر چکا تھااور وہ کہیں بھی دکھائی نہ دیاتھا۔
کیا ہوا عنا کسی کو ڈ ھو نڈ رہی ہو کیا....؟؟؟؟پیچھے سے آتی ہوئی بسمہ اس کے کندھے پر ہا تھ رکھتے ہوئے بو لی۔ عنا دل جو کہ ا پنے خیا لو ں میں گم تھی۔ا یک دم چو نک پڑی۔
نہیں...ً نہیں کسی کو بھی نہیں میں نے کس کو ڈھو نڈنا ہے میں تو تمہارا ہی ا نتظار کر رہی تھی۔ وہ بو کھلا ئی ہو ئی بو لی۔
پکانہ.. مجھے لگا تم ا برا ہیم کو ڈھو نڈ رہی ہو۔ بسمہ جا نچتی ہو ئی نظر و ں سے بو لی۔
کو ن ا براہیم تم بھی نہ کچھ بھی بو لتی ہو۔ عنا دل ا پنے آ پ کو سنبھا لتے ہو ئے بو لی۔
وہ ہی جسے اس دن تم نے ڈا نٹا تھا۔بسمہ کی تیز نظر یں اس کے اندر کے حا ل کو جا ننے کی کو شش کر رہی تھی۔
اوہ تو اس کا نا م ابراہیم ہے۔ عنا دل کے چہرے کا رنگ ایک دم تبد یل ہو ا تھا جیسے اسے تھو ڑا سا سکون ملاہو۔ویسے تمہیں کیسے پتہ اس کے با رے میں...؟؟؟
بسمہ کا شک اب یقین میں بدل چکا تھا یعنی وہ بھی اسے پسند کر نے لگی تھی مگر اس محبت کی کوئی منزل ہو سکتی تھی کیا....؟؟؟؟
کیا ہو ا کیا سوچنے لگ گئی۔عنا دل اس کا کند ھا ہلا تے ہوئے بو لی۔
نہیں کچھ نہیں...بسمہ اپنی سو چوں سے با ہر آتے ہو ئے بولی۔
میں نے پو چھا تم کیسے جا نتی ہو ابرا ہیم کو۔ اور تم پتہ نہیں کہاں گم ہو گئی۔
تم کیا کرو گی جا ن کر...؟؟؟
کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی پو چھا۔عنا دل نظر یں چراتے ہوئے بو لی۔وہ کیفیت جو وہ خود بھی نہ جا نتی تھی ٹھیک سے کسی اور کو کیا بتا تی۔
ا چھا چلو چھوڑو..چلو گھر چلتے ہیں ویسے بھی اب کو ئی لیکچر تو ہے نہیں۔بسمہ اس کا دھیان ابراہیم کی طر ف سے ہٹاتے ہوئے بولی۔
ہاں چلو چلتے ہیں۔عنا دل ما یوسی سے بو لی۔اور وہ دونوں واپسی کے لیے نکل پڑی
....................................................
بسمہ کو گھر ڈراپ کر کے وہ خود گھر آکر اپنے کمرے میں بندہو گئی جب وہ سا منے تھا تو وہ چڑتی تھی اور جب سے وہ نظر نہیں آیا تھا تو وہ عجیب سی بے چینی میں مبتلا تھی آنکھیں مسلسل اسے ڈھونڈتی تھی اور کسی کام میں دل بھی نہیں لگتا تھا وہ نہیں جا نتی تھی کہ اس کو آخر ہوا کیا ہے یا پھر وہ سچ کو تسلیم نہیں کر نا چا ہتی تھی۔
......................................................
وہ نہ جانے کب سے چھت پرپڑی چارپائی پرلیٹا آسما ن کو غور رہا تھامئی کا مہینہ چل رہا تھا اور گرمی اپنے جوبن پر تھی اور اس گرمی میں بھی اس کاماتھا جل رہاتھا پچھلے تین دن سے وہ بخار میں مبتلاتھااسے جیسے خود کی کوئی پروا ہی نہیں تھی پروا تھی تو بس یہ کہ وہ دوبارہ اسے کبھی دیکھ نہیں پا ئے گا وہ عصر ٹائم کا ادھر آیا تھا اور
تب سے وہی تھاروشنی اب تا ریکی میں بدل چکی تھی اور تارے بھی نکل آئے تھے لیکن اسے کچھ پروا نہیں تھی اور نہ اسے کھاناکھانا یا د تھانہ دوائی لینا یاد تھا تو بس یہ کہ عنا کو دیکھے ایک پورا ہفتہ گزر چکاتھا۔
............................................................
عنا کدھر ہے جب سے میں آیا ہوں نظر ہی نہیں آئی۔ سلیم صاحب جب سے گھر آئے تھے عنا کہیں نظرنہیں آرہی تھی اس لیے کھانا لگاتی ثر یا سے پوچھا۔
اپنے کمر ے میں ہے جب سے یو نیو رسٹی سے آئی ہے کمرے میں بند ہے میں دروازہ بجا بجا کر تھک گئی پر کوئی جوا ب نہیں دے رہی۔ثر یا بیگم نے جواب دیاجو کہ دوپہرسے عنا کے کمرے کے چکر لگا لگا کر تھک چکی تھی۔
خیر یت تو ہے پہلے تو کبھی ا یسا نہیں ہوا۔ سلیم صا حب حیرا ن ہو ئے وہ آج تین دن بعد ایک بزنس ٹر پ سے گھر لو ٹے تھے اور ایسا پہلی با ر ہو ا تھا کہ عنا ان سے ملنے نہیں آئی تھی پہلے جب وہ بز نس ٹرپ سے لوٹتے تو بھا گ کر ان کے گلے لگ جا تی تھی اور اب ا نہیں آئے تین گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے اور وہ نظر نہیں آئی تھی پہلے انہیں لگا کہ تھکی ہو گی مگر اب انہیں تشو یش ہو رہی تھی۔
اس کی طبعیت تو ٹھیک ہے نا ں۔
پتہ نہیں جب وہ یو نیورسٹی سے آئی تب میں گھر نہیں تھی اور جب گھر آئی تب سے دس چکر لگا چکی ہو ں کو ئی جواب نہیں دے رہی مجھے خود کا فی پر یشا نی ہو رہی ہے کیا کر وں۔
اچھا میں خود دیکھتا ہو ں۔ سلیم ا ٹھتے ہو ئے بو لے۔
سلیم صا حب شہر کے جا نے ما نے بز نس مین تھے اور عنادل سلیم اور ثر یاکی ا کلو تی اور لاڈلی اولاد تھی جو کہ شا دی کہ آٹھ سا ل بعد بڑی منتو ں اور مرادوں کے سا تھ پیدا ہوئی تھی۔
عنا...عنا بیٹا دروازہ کھولو میں ہوں۔ سلیم صا حب نے دروازہ نا ک کر تے ہو ئے کہا۔
عنا جو کہ ابرا ہیم کے با رے میں سو چتے سو چتے کب سو ئی تھی پتہ ہی نہیں چلا تھادروازہ کھٹکنے اوربا با کی آواز پر حیران ہوتی کھڑی ہو ئی کھڑ کی کی طر ف دیکھا تو با ہر اندھیرا پھیل چکا تھاایسا آج تک پہلی با ر ہو ا تھا جو وہ اتنی دیر تک سوئی تھی سر پر ڈوپٹہ لے کر اس دروازہ کھو لا تو سا منے با با کھڑے تھے وہ بھا گ کر ان کے گلے لگ گئی۔
آپ کب آئے با با...؟ وہ ان کے چہر ے کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی۔
مجھے تو آئے کو کا فی دیر ہو گئی اور کا فی دیر تک آپ کا انتظار کر نے کے بعد آپ کو دیکھنے اوپر آیا تھا۔وہ اس کے چہر ے کو غور سے دیکھتے ہو ئے بولے وہ انہیں آج کچھ کچھ بد لی بد لی سی لگ رہی تھی بچپن سے لے کر آ ج تک وہ اپنی ا می سے زیا دہ ان سے اٹیچ تھی اور اس کی زرا سی تبد یلی کو وہ ا یک منٹ میں بھا نپ جا تے تھے
کچھ نہیں با با وہ یو نیو رسٹی میں آج زیا دہ کلا سز کی وجہ سے کا فی تھک گئی تھی۔ وہ دونوں ہا تھوں کی ا نگلیوں کو ایک دو سر ے میں پھنسا تے ہو ئے بو لی وہ ایسا گھبر ا ہٹ میں کر تی تھی جو کہ سلیم صا حب کی نظر وں سے مخفی نہ رہاتھا۔
اچھا چلو چل کر کھا نا کھا تے ہیں۔ وہ اس کو ا یزی فیل کر وا تے ہو ئے بو لے جو بھی با ت تھی وہ جا نتے تھے کہ وہ خو د ہی بتا دے گی وہ ان سے آج تک کو ئی بھی با ت نہیں چھپا پا ئی تھی۔
ہا ں با با میں منہ ہا تھ دھو کر آتی ہو ں۔وہ با با کا دھیا ن خود سے ہٹتے دیکھ کر آرا م سے بو لی اسے لگا کہ شا ید وہ اپنی کیفیت ان چھپا چکی تھی۔
.............................................................
آپ کب آئے با با...؟ وہ ان کے چہر ے کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی۔
مجھے تو آئے کو کا فی دیر ہو گئی اور کا فی دیر تک آپ کا انتظار کر نے کے بعد آپ کو دیکھنے اوپر آیا تھا۔وہ اس کے چہر ے کو غور سے دیکھتے ہو ئے بولے وہ انہیں آج کچھ کچھ بد لی بد لی سی لگ رہی تھی بچپن سے لے کر آ ج تک وہ اپنی ا می سے زیا دہ ان سے اٹیچ تھی اور اس کی زرا سی تبد یلی کو وہ ا یک منٹ میں بھا نپ جا تے تھے
کچھ نہیں با با وہ یو نیو رسٹی میں آج زیا دہ کلا سز کی وجہ سے کا فی تھک گئی تھی۔ وہ دونوں ہا تھوں کی ا نگلیوں کو ایک دو سر ے میں پھنسا تے ہو ئے بو لی وہ ایسا گھبر ا ہٹ میں کر تی تھی جو کہ سلیم صا حب کی نظر وں سے مخفی نہ رہاتھا۔
اچھا چلو چل کر کھا نا کھا تے ہیں۔ وہ اس کو ا یزی فیل کر وا تے ہو ئے بو لے جو بھی با ت تھی وہ جا نتے تھے کہ وہ خو د ہی بتا دے گی وہ ان سے آج تک کو ئی بھی با ت نہیں چھپا پا ئی تھی۔
ہا ں با با میں منہ ہا تھ دھو کر آتی ہو ں۔وہ با با کا دھیا ن خود سے ہٹتے دیکھ کر آرا م سے بو لی اسے لگا کہ شا ید وہ اپنی کیفیت ان چھپا چکی تھی۔
...........................................................
کھا نے میز پر بھی وہ چپ ہی تھی امی نے بھی اس سے پو چھا تھا کہ ان کے اتنی با ر دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی اس نے کو ئی جوا ب کیو ں نہیں دیا تو انہیں بھی اس نے وہ ہی جو اب دیا اور پھر کھا نا کھا نے کے بعد تھو ڑی دیر وہ ان پا س بیٹھنے کے بعد وہ کل یو نیو ر سٹی جا نے کا بہا نا کر کے اوپر آ گئی۔ تمہیں نہیں لگتا کہ عنا کچھ بد لی بد لی سی ہے۔ عنا کہ جا نے کے بعد وہ ثر یا سے مخا طب ہو تے ہو ئے بو لے جو کہ اپنی ا لما ری میں سلیم صا حب کے سفر کا سا ما ن نکا ل نکا ل کر ر کھ رہی تھی۔ ہا ں لگ تو رہا ہے شا ید یو نیو رسٹی کے کچھ کا م کی وجہ سے ہو۔وہ مصرو فیت سے بو لی۔ نہیں مجھے ا یسا نہیں لگتا۔ کیو ں کیا ہو ا اس نے آپ کو کچھ بتا یا ہے کیا....؟ ثر یا کا م چھوڑ کر ان کی طر ف دیکھتی ہو ئی بو لی۔ نہیں بتا یا تو کچھ نہیں بس مجھے لگتا ہے۔ آپ کچھ زیا دہ ہی سو چ رہے ہیں۔ثر یا ہنستے ہو ئے بو لی اور دوبا رہ اپنے کا م میں مصر وف ہو گئی کیا وا قعی وہ زیا دہ سو چ رہے تھے انھو ں نے بیڈ کے ما تھے سے ٹیک لگا تے ہو ئے سو چا۔ اگر زیا دہ پر یشا نی ہو رہی ہے تو آپ اس سے خو د کیو ں نہیں پو چھ لیتے۔ ثر یا انہیں پر یشا ن د یکھ کر بو لی۔ نہیں وہ پہلے کی طر ح خو د ہی بتا دے گی۔ سلیم صا حب آ نکھیں کھو لتے ہوئے بو لے ثر یا بس انھیں دیکھتی رہ گئی یہ تو وہ بھی جا نتی تھی کہ عنا ان سے کبھی کو ئی با ت نہیں چھپا تی تھی خا ص طو ر پر سلیم صا حب سے پر ان کو پر یشا ن دیکھ کر ان کو بھی اب پر یشا نی ہو رہی تھی۔ ................................................. ایک جیتا جا گتا ا نسا ن را توں را ت کیسے غا ئب ہو سکتا ہے سو چیں تھی کہ ختم نہیں ہو رہی تھی سا ری را ت حور ین نے سو تے جا گتے کا ٹی تھی۔صبح ا ٹھی تب بھی یہی سوا ل دما غ میں گر دش کر رہا تھا آخر کا ر تنگ آکر اس نے اپنی پر یشا نی انا بیہ سے شیئر کر نا کا سو چا۔ تم جا نتی ہو نہ کہ دادی کو اس کا نا م لینا نہیں پسند تھا۔ ا نا بیہ جو کہ اس کہ پا س بیٹھی تھی اٹھ کھڑی ہو ئی وہ دو نوں اس وقت حو رین کے کمر ے میں بیٹھی تھی جب حو رین نے اسے صا لحہ کے با رے میں بتا یا تو وہ ایک دم زور سے بو لتی ہو ئی اٹھ کھڑی ہو ئی۔ تم تو کم از کم آہستہ بو لو و یسے تو کو ئی سنے نہ سنے تمہا رے اس طر ح چیخنے پر سب کو ضر ور پتہ چل جا ئے گا۔ حو رین اس کا با زو پکڑ کر دوبا رہ بیٹھاتے ہو ئے بو لی۔ تمہیں معلو م ہے جب ہم نے پچھلی با ر دادی سے اس کے با رے میں پو چھا تھا تو وہ کتنی غصہ ہو ئی تھی اور ہمیں کتنا ڈانٹا تھامجھے لگاکہ تم اس کے بعد دوبا رہ کبھی اس کا نا م بھی نہیں لو گی ڈھونڈنا تو دورکی با ت ہے پر تم تھو ڑے دنوں بعد ہی پھر سے شر وع ہو گئی اس دن وا لی ڈا نٹ بھول گئی کیا....؟؟؟۔وہ اس کے چہر ے کی طر ف دیکھتی ہو ئی بو لی۔ ہا ں یا د ہے مجھے یہ بھی یا د ہے کہ دادو نے کہا تھا کہ انہیں دوبارہ ہما رے منہ سے یہ نا م سنا تو ہمیں زندہ نہیں چھو ڑے گی۔ پھر بھی تم اس کے با رے جا ننا چا ہتی ہو....؟ا نابیہ کو حیر ت ہو رہی تھی کہ آخر حو رین کو اس میں اتنی دلچسپی کیوں تھی سب بچو ں میں سے دادی کو سب سے زیا دہ پیا ری حورین تھی جس کی کو ئی بھی خو اہش دادی نے کبھی رد نہیں کی تھی اور یہ بھی پہلی با ر ہو ا تھا کہ دادی نے حو رین کو انٹا تھاجب اس نے صا لحہ کا پو چھا تھا نہیں تو دادی نے اسے کبھی نہیں ڈا نٹا تھا تو ضر ور کو ئی بڑی وجہ ہو گی جو وہ صا لحہ کا نا م بھی نہیں سننا چا ہتی تھی۔ ہا ں میں جا ننا چا ہتی ہو ں۔ حو رین نے جواب دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آ خر تم یہ سب کر کیو ں رہی ہو جب کہ سب جا نتے ہیں کہ وہ بھا گ گئی تھی کسی کہ سا تھ اور تم ہو کہ ضد پر اڑی ہوکہ اسے ڈھو نڈ کر رہو گی۔ انا بیہ جو کہ اس کی ہٹ دھر می دیکھ کر زچ ہو چکی تھی وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی کیسے سمجھا ؤ ں میں تمہیں تم تب چھوٹی تھی تمہیں یا د نہیں مجھے یا د ہے وہ اچھی طر ح سے جو انسا ن یہ بھی نہ جا نتا ہو کہ کینڈی کیا چیز ہے وہ کیسے بھا گ سکتی ہے کسی کے سا تھ۔ حو رین بے بسی سے بو لی۔ ہو سکتا ہے وہ پڑھی لکھی نہ ہو اسے نہیں پتہ ہو کہ کینڈی ا نگلش کا لفظ ہے۔ انا بیہ اس کو قا ئل کر نے کی کو شش کر تے ہو ئے بو لی۔ نہیں ا یسا نہیں تھا اس کا ا ندا ز وہ سب ا یسا نہیں تھا۔ حو رین تو جیسے رو نے وا لی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ا نا بیہ کو کیسے سمجھا ئے اس کے چہر ے پر پھیلی معصو میت اور آنکھو ں میں مو جو د حیر ت وہ ایسی نہیں ہو سکتی تھی جیسا با قی لو گو ں کو لگتا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی حو رین آ خر تم یہ سب چھو ڑ کیو ں نہیں دیتی۔انا بیہ اس کے کند ھے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی۔ تمہیں کیا ملا گا اس چیز سے کہ وہ بھا گ گئی یا اس کے سا تھ جو بھی ہوا جو ہو گیا وہ ما ضی تھا اور ہم ما ضی کو بد ل نہیں سکتے تم جا ن بھی لو گی تو کیا کر و گی وہ سو ا لیہ نظر وں سے اس کا چہرہ دیکھتے ہو ئے بو لی۔ میں راتو ں کو سو نہیں پا تی ہر وقت اس کی سو چیں میر ے دما غ میں گر دش کر تی ہیں آنکھیں بند کرو ں تو اس کا چہر ہ آجا تا ہے میر ے سا منے آنکھیں کھو لوں تو دیکھا ئی دیتی ہے کا نو ں میں اس کی آوا زیں گو نجتی ہیں میں کیا کروں مجھے خو د سمجھ نہیں آ رہامیں کیا کر وں کہاں جا ؤں مجھے نہیں معلو م اسے ڈھونڈ کہ کیا ہو گا پر کم از کم مجھے سکون مل جا ئے گا با قی کچھ میں نہیں جا نتی۔ حو رین ایک ہی سا نس میں بو لتی چلی گئی اس کی آنکھوں پا نی سے بھر چکی تھی وہ بچپن سے ہی بہت حسا س تھی۔ انا بیہ چپ چا پ اسے دیکھ رہی تھی اس کے چہر ے پر پھیلی بے چینی اور درد صا ف دیکھا ئی دے رہا تھا جیسے اس کا کچھ قیمتی کھو گیا ہو اس کی حا لت دیکھ کر ا نا بیہ کہ ا لفا ظ تو جیسے ختم ہو گئے تھے۔ ............................................................
ایک ہفتہ مزید گزر چکا تھاعنا کو ا برا ہیم کو دیکھے آج پو رے پند رہ دن گز ر چکے تھے اور یہ پندرہ دن کیسے گزرے تھے وہ ہی جا نتی تھی اوپر سے وہ کسی کچھ پو چھنے کی ہمت رکھتی تھی نہ کچھ بتا نے کی اس کے لیے خو د اس نے خود یہ با ت بڑی مشکل سے تسلیم کی تھی کہ وہ ا بر ا ہیم سے محبت کر تی ہے وہ اپنے آپ کواپنے ما ں با پ کا مجر م سمجھ رہی تھی کہ وہ ان کے پیا ر کا ا یہ صلہ دے رہی تھی کہ وہ ایک نا محرم کو پسند کر نے لگی تھی جب ان کو پتہ چلے گا تو کیا ہو گاکیا وہ یہ بر دا شت کر پا ئے گے یا وہ کبھی اسے معاف کر پا ئے گے کیاوہ جو کر رہی تھی وہ غلط ہے کیا کسی کو پسند کر نا غلط ہے۔
میں پسند کر تی ہو ں ا بر ا ہیم کو.....آج فر ی پر یڈ میں جب وہ اور بسمہ کینٹین میں آ کر بیٹھی تو ہمت کر کے عنا نے یہ با ت کہہ دی۔
کیا....بسمہ کو توجیسے جھٹکا لگا تھا اسے اتنے دنوں سے پر سکو ن د یکھ کر بسمہ کو لگا کہ وہ اسے بھو ل چکی ہو گی مگر آج اس کہ منہ سے یہ ا عتر اف سن کر اسے تو جیسے جھٹکا سا لگا تھا۔
تم ہی نے اس دن پو چھا تھا نہ کہ میں کیو ں جا ننا چا ہتی ہوں ابرا ہیم کے با رے میں تویہ وجہ ہے اس کی میں پسند کر تی ہوں اسے۔عنا نے کر سی ٹیک لگا تے ہو ئے جوا ب دیا وہ اتنے دنوں سے دل اور دماغ میں چل رہی اس جنگ سے تنگ آ چکی تھی اور جیسے بسمہ کے سا منے اقرار کر کے وہ پر سکو ن سی ہو چکی تھی۔
پر کیو ں تم تو اسے ٹھیک سے جا نتی بھی نہیں ہو ایسے کیسے پسند کر سکتی ہو تم کسی کواور انکل آ نٹی کہ با رے میں سوچا ہے کہ ان پر کیا بیتے گی۔بسمہ اس کے چہر ے کو غو ر سے دیکھتی ہو ئی بو لی۔
کیو ں کب کہا ں اور کیسے میں خو د بھی نہیں جا نتی میر ی مدد کر و پلیزمیں نہیں جا نتی میں کیا کر وں امی ابو کو کیسے بتا ؤں اور کیا بتا ؤ ں تمہا رے علاوہ میں کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ وہ پھر سے بے قر ار ہو چکی تھی تھوڑی د یر پہلے وا لا سکو ن اب غا ئب ہو چکا تھا۔
میں تمہیں بتا تی ہو ں پھر شا ید تمہیں فیصلہ کر نے میں آسا نی ہو۔ بسمہ جیسے کسی نتیجہ پر پہنچتی ہو ئی بو لی تھی۔
                    .................................................
آج پھر ا بر ا ہیم چھت پر لیٹا تا رو ں بھر ے آسما ن کو د یکھ رہا تھا بخا ر اتر چکا تھا اور وہ روز یو نیو رسٹی بھی جا رہا تھااور کام پر بھی سب کچھ معمو ل کے مطا بق چل رہا تھابس عنا کو دیکھے پند رہ دن گزر چکے تھے اتنا پا س ہو نے کہ با وجو د بھی وہ اسے نہیں دیکھ پا رہا تھا عجیب سی بے بسی تھی اس کی تر بیت ا یسی نہ تھی کہ وہ ا پنی ز با ن سے مکر جا ئے عنا کے ا یک با ر منع کر نے کے بعد وہ ایک با ر بھی بھو ل کر ا د ھر نہیں گیا تھا پر خو د کی بے چینی پر اس کا کو ئی ا ختیا ر نہیں تھا یہ ا یک چیزتھی جسے وہ قا بو نہیں کر پا یا تھا وہ تھا عنا سے محبت کر نا گھنٹو ں آ سما ن کو د
یکھتے ہو ئے وہ اس کے با رے میں سو چتا رہتا تھاہر وقت کھو یا کھویا سا تھااب تو آ پی بھی اس کا کھو یا پن محسوس کر نے لگی تھی وہ ہر با رکا ل پر اس سے پو چھتی کہ کچھ ہوا ہے کیا پر وہ چا ہ کر بھی اسے کچھ بتا نہ پایاتھا۔

                     ..................................................... Read More: Episode 3

عنا جب سے یو نیو رسٹی آئی تھی تب سے سو چو ں میں گم تھی بسمہ کی با تیں اسے ا پنے آس پا س گو نجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
میں تمہیں بتا تی ہو ں پھر شا ید تمہیں فیصلہ کر نے میں آسا نی ہو.بسمہ نے کر سی ٹیک چھوڑ کر سیدھی بیٹھی اور  اپنے ہا تھ ٹیبل پر رکھے اس نگا ہیں مسلسل عنا کہ چہر ے پر تھیں.”ابر ا ہیم میر ے پا پا کا دور کا رشتے دار ہے اس کا وا لد میر ے پا پاپا س کا م کر تا تھا اس لیے وہ بچپن سے ہما رے گھر آ تا جا تا ر ہتا ہے کچھ سا ل پہلے اس کے وا لد کی ا یک حا دثے میں ڈیتھ ہو گئی تھی وہ میر ے پا پا کے و فا دارملا زم تھے اس لیے ان  ے بعد میر ے پا پا نے ان کی سا ری ذمہ دا ری ا ٹھا ئی تھی جس میں ابر ا ہیم کی تعلیم اور اس کی بہن کی شا دی بھی شا مل ہے مگر جب سے ابر ا ہیم نے ہو ش سنبھالا تو اسے یہ با ت گو ا را نہیں تھی کہ وہ کسی کا ا حسان لیتا تو اس لیے وہ ہما رے گھر کہ چھو ٹے مو ٹے کا م کر نے لگا اس کا اس یو نیو رسٹی میں آ نا اس کی محنت کے علا وہ پاپا کی سپو رٹ بھی شا مل ہے اور یو نیو رسٹی آ نے کے ا یک سا ل بعد اس کی ما ں کی بھی ڈیتھ ہو گئی تھی تب سے وہ ا کیلا ہی ر ہتا ہے“۔
بسمہ ایک لمحہ کو سا نس لینے کے لیے روکی اور عناکی طر ف دیکھا جو بس چپ چا پ سن رہی تھی وہ پھر سے گو یا ہو ئی.”میں ا بر ا ہیم کرو بچپن سے جا نتی ہوں وہ کا فی سلجھا ہوا ا نسا ن ہے اپنے وعدہ اور زبا ن کا پکا ا ور ا یک قا بل ا نسا ن ہے ا س کا ا ندازہ تمہیں اس  با ت سے ہو ہی گیا ہو گا جب وہ تمہا رے ا یک با ر منع کر نے کے بعد کبھی نظر نہیں آ یا تھا پر با ت یہ ہے عنا کہ کیا صر ف ا تنا ہو نا کا فی ہے ا یک طر ف تم ہو جو کبھی گا ڑی کے بغیر کہیں نہیں جا سکتی اور ا یک طر ف وہ جو یو نیو رسٹی آنے کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ چل کر آتا ہے
ایک طر ف تم ہو جو شہر کے ا یک جا نے ما نے ا میر آد می کی ا کلو تی بیٹی ہو اور ایک طر ف وہ جو ا یک ملا زم کا 
بیٹا ہے تو کیا تمہا رے با با ایسے انسا ن کا ا نتخا ب کر ے گا اپنی بیٹی کے لیے جس کے کل کاکو ئی پتہ بھی نہیں ہے مجھ سے زیا دہ تو اس با ت کا ا ندا زہ تمہیں ہو گا۔ بسمہ نے آ خر ی با ت عنا کے ہا تھ پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے کی تھی جو کے اب بھی خا مو ش تھی۔
”جو بھی فیصلہ کر و ان سب با توں کو سا منے ر کھ کر کرنا تا کہ جو بھی فیصلہ کرو اس پر قا ئم رہ سکو اور کل کو پچھتانا بھی نہ پڑے“. عنا خا مو شی سے ا ٹھ کر آ گئی ا ور تب سے خا مو ش ہی تھی
                ..............................................................  
سا رے گھر میں خا مو شی چھا ئی تھی جو کے ا بر ا ہیم کے لیے عا م با ت تھی دو سا ل پہلے امی کے جا نے کے بعدسے گھر کی یہ ہی حا لت تھی کبھی کبھا ر آ پی ا پنے بچو ں کے سا تھ آ جا تی تو تھو ڑے دنو ں کے لیے چہل پہل ہو جا تی اوران کے جا نے پر سب کچھ پہلے جیسا ہو جا تا تھا آپی بھی اس کے لیے کا فی پر یشا ن تھی پر کیا کر تی ان کی بھی مجبو ریاں تھی زیادہ دیررہ بھی نہیں سکتی تھی اور ا گر چلی جا تی تو بھی اس کی فکر ہر و قت رہتی تھی وہ کا م سے آ کر سید ھا معمو ل کے مطا بق چھت پر آ کر بیٹھ گیا کھا نا وہ با ہر سے ہی کھا کر اآتا تھا ہلکا ہلکا ا ند ھیرا پھیل چکا تھا ابھی آ سما ن صا ف تھا۔
تو کیا یہ سب اس طر ح ختم ہو نا تھا آ ج اسے شد ت سے ما ں کی یا د آ رہی تھی جس کی گو د میں سر ر کھ کراس کادنیا جہا ں کا سارادرد ختم ہو جا تا تھا جو بن اس کے کچھ کہے بھی سب کچھ سمجھ جا یا کر تی تھی ان کے جا نے کے بعد اسے سمجھ نہیں آ یا تھا کے کس پا س جا ئے اور ایک با ر ہی سہی پر دل کا بو جھ ہلکا کر لے دنیا میں صرف ایک ہی رشتہ بچا تھا اس کے پا س اسے وہ خو د پر یشا ن نہیں کر نا چا ہتا تھا وہ پہلے ہی اس کو لے کر کا فی گلٹ میں رہتی تھی کہ وہ اس کا چا ہ کر بھی خیا ل نہیں رکھ پا تی یہ سب بتا تا تو ا سے مز ید پر یشا ن ہو تی اور بتا تا بھی تو کیا کہ اس کی کہا نی شر وع ہو نے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی یا اس کی کہا نی کبھی تھی ہی نہیں صر ف اس کا
ایک طر فہ جنون تھااسے تو شا ید اس کے جذ با ت کی سچا ئی کی کو ئی خبر ہی نہ ہو پا ئی تھی۔   
               
جا ری ہے

For updates and more info join my watsapp channel

Read More: Episode Two



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.